شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

یعقوب پرواز

  • غزل


ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ


ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ
گنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگ

دستار کے حصول کا کوئی تو ہو جواز
کس زعم میں ہیں مبتلا یہ سر بریدہ لوگ

اے کاش اپنی موت ہی مرتے تو تھا مزا
جاں سے گزر گئے ہیں جو مردم گزیدہ لوگ

کوئی تو پشتی بان ہے ان کا یہیں کہیں
کب بیٹھتے ہیں چین سے دامن دریدہ لوگ

کھینچے گی طول کب تلک مہلت ملی ہوئی
فرعون بن گئے ہیں ترے آفریدہ لوگ

پروازؔ جن کی دید کو آنکھیں ترس گئیں
لائیں کہاں سے ڈھونڈ کے ایسے چنیدہ لوگ


Leave a comment

+