شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

وسیم نادر

  • غزل


ہزار زخم ملے پھر بھی مسکراتے ہوئے


ہزار زخم ملے پھر بھی مسکراتے ہوئے
گزر گیا ہے کوئی راستہ بناتے ہوئے

وہ پوچھ بیٹھا تھا مجھ سے سبب بچھڑنے کا
زبان کانپ گئی اس کو سچ بتاتے ہوئے

یہ کس گناہ کا احساس ہے مرے دل کو
نگاہ اٹھتی نہیں روشنی میں آتے ہوئے

عذاب پوچھے کوئی ہم سے کم لباسی کا
تمام عمر کٹی ہے بدن چھپاتے ہوئے

تمہارے نام کے آنسو ہیں میری آنکھوں میں
یہ بات بھول نہ جانا مجھے رلاتے ہوئے


Leave a comment

+