شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

ثمینہ راجہ

  • غزل


زہر غم کام کر گیا شاید


زہر غم کام کر گیا شاید
کوئی جاں سے گزر گیا شاید

دل عجب حالت قرار میں ہے
زخم امید بھر گیا شاید

چاند اک ساتھ ساتھ چلتا تھا
رات کے پار اتر گیا شاید

میری منزل پکارتی تھی مجھے
لوٹ کر وہ بھی گھر گیا شاید

اب جو ہم راہ کوئی چاپ نہیں
آخری ہم سفر گیا شاید

موت کیوں اس قدر عزیز ہوئی
زیست سے کوئی ڈر گیا شاید


Leave a comment

+