شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

رازق انصاری

  • غزل


آنسو اپنی چشم تر سے نکلیں تو


آنسو اپنی چشم تر سے نکلیں تو
تازہ دم ہو جائیں گھر سے نکلیں تو

بیماروں کو تھوڑا سا آرام ملے
باہر دست چارہ گر سے نکلیں تو

سچائی سے پردہ بھی ہٹ سکتا ہے
اخباروں میں چھپی خبر سے نکلیں تو

نا ممکن ہے واپس لوٹیں خالی ہاتھ
چاند پکڑنے لیکن گھر سے نکلیں تو

منظر میں کردار ہمارا بھی آ جائے
شرط ہے پہلے پس منظر سے نکلیں تو


Leave a comment

+