شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

قربان علی سالک بیگ

  • غزل


مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے


مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہے
کہ یاں ہر دم خیال نرگس مستانہ آتا ہے

ٹھکانے جستجوئے یار میں کس کس کے چھوٹے ہیں
کہ بلبل باغ میں اور بزم میں پروانہ آتا ہے

شب فرقت اٹھا کر فتنۂ محشر سے کہتی ہے
مجھے زلف دراز یار کا افسانہ آتا ہے

نکل کر آنکھ سے غائب نہیں ہوتے ہیں یہ آنسو
اسی پانی سے بھرتا عمر کا پیمانہ آتا ہے

الٰہی لوگ کیوں ہو ہو کے خوش فردوس جاتے ہیں
مگر اس باغ سے آگے کوئی ویرانہ آتا ہے

دل زار اور شست یار میں اک راہ ہے مخفی
خطا ہو کر بھی سیدھا ناوک جانانہ آتا ہے

چلا ہوں گھر سے اٹھ کر کعبے کی جانب مگر مجھ کو
تردد ہے کہ رستے میں مرے مے خانہ آتا ہے

مجھے گردش میں پایا دورۂ چرخ بریں کاہے
کہ میرے ساتھ چکر میں مرا کاشانہ آتا ہے

یہ رغبت ہے اسے اغیار سے جب شعر کہتا ہے
تو مضموں بھی خیال یار میں بیگانہ آتا ہے

ترے کوچے میں ہو جاتا ہے کیا انسان پر جادو
ابھی ہشیار جاتا ہے ابھی دیوانہ آتا ہے

گیا جو اس خم گیسو میں واں کا ہو رہا سالکؔ
یہ حیرت ہے سلامت کیوں کہ پھر کر شانہ آتا ہے


Leave a comment

+