شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

پروین فنا سید

  • غزل


تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں


تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں
یہ مگر ترک محبت تو نہیں

میری آنکھوں میں اترنے والے
ڈوب جانا تری عادت تو نہیں

تجھ سے بیگانے کا غم ہے ورنہ
مجھ کو خود اپنی ضرورت تو نہیں

کھل کے رو لوں تو ذرا جی سنبھلے
مسکرانا ہی مسرت تو نہیں

تجھ سے فرہاد کا تیشہ نہ اٹھا
اس جنوں پر مجھے حیرت تو نہیں

پھر سے کہہ دے کہ تری منزل شوق
میرا دل ہے مری صورت تو نہیں

تیری پہچان کے لاکھوں انداز
سر جھکانا ہی عبادت تو نہیں


Leave a comment

+