شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

عبید صدیقی

  • غزل


منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سے


منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سے
شام شفق میں ڈھل جاتی ہے رنگ حنا کی لالی سے

تجھ سے بچھڑ کر زندہ رہنا اپنے سوگ میں جینا ہے
دل اک پھول تھا خوشبو والا ٹوٹ گیا ہے ڈالی سے

شہر طرب کو جانے کس کی نظر لگی ہے آج کی شب
رستے بھی ویران پڑے ہیں گھر لگتے ہیں خالی سے

دنیا والے جس کو اکثر رونا دھونا کہتے ہیں
آنکھیں دریا بن جاتی ہے جذبوں کی سیالی سے

دھول بھرے رستوں کے سفر نے طرز فکر بدل ڈالا
خوف زدہ سی رہنے لگی ہے خاک بدن پامالی سے

ویڈیو
This video is playing from YouTube Videos
This video is playing from YouTube عبید صدیقی RECITATIONS عبید صدیقی



00:00/00:00 منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سے عبید صدیقی

Leave a comment

+