شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

محب عارفی

  • غزل


عمر بھر جس پہ تکیہ رہا کچھ نہ تھا دل نہیں مانتا


عمر بھر جس پہ تکیہ رہا کچھ نہ تھا دل نہیں مانتا
کیا کروں تجزیوں کا اٹل فیصلہ دل نہیں مانتا

کوند کر ایک لمحہ جو پھر جا ملا وقت کے ابر میں
چھوڑ دے گی اسے وقت کی مامتا دل نہیں مانتا

گھپ اندھیرے سے لیتی ہے کیوں کر جنم روشنی کی لگن
یہ کرشمہ نہیں ہے کسی شمع کا دل نہیں مانتا

خشک ہی کیوں نہ ہو جائے دریا مرا لہر بن بن کے میں
ڈھونڈھنا چھوڑ دوں خشکیوں کا سرا دل نہیں مانتا

اپنے مرکز کو اک وہم سمجھا کیا عقل کا دائرہ
جس کو کچھ اپنے دام کشش کے سوا دل نہیں مانتا

اس کی تصویر کو دیکھتے دیکھتے یہ ہوا کیا مجھے
یعنی بے حس ہے تصویر کی ہر ادا دل نہیں مانتا

دل میں کچھ ہے زباں سے نکلتا ہے کچھ بات ایسی ہے کچھ
میرا مطلب محبؔ کوئی پا جائے گا دل نہیں مانتا


Leave a comment

+