شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

لیث قریشی

  • غزل


سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو


سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو
مری انائے خفی کو سوال ہی سمجھو

وہ روبرو ہیں مرے دل مگر یہ کہتا ہے
خیال حسن کو حسن خیال ہی سمجھو

رفاقتوں کے قرینے بدلتے رہتے ہیں
سو کرب‌ ہجر کو لطف وصال ہی سمجھو

تڑپ رہے ہیں جو یوں ہم صدائے ساز کے ساتھ
اسے کچھ اور نہیں وجد و حال ہی سمجھو

مرے ہنر کو رہا بزم کم نظر سے گریز
اسے بھی میرے ہنر کا کمال ہی سمجھو

ہوائے صبح چمن اور ایک بار اگر
گزر گئی تو ہمیں پائمال ہی سمجھو

دلوں کے زخم چھپے ہیں لہو کی چادر میں
تمہیں غرض نہیں تم اندمال ہی سمجھو

حصول کیف کو میخانۂ حیات میں لیثؔ
شکست جام سے پہلے محال ہی سمجھو


Leave a comment

+