شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر عباس صفوی

  • غزل


کچھ ایسے اہل نظر زیر آسماں گزرے


کچھ ایسے اہل نظر زیر آسماں گزرے
کہ جن کے فرش پہ بھی عرش کا گماں گزرے

مرے سکوت مسلسل کو بھی صدا دینا
اگر ادھر سے کبھی سورش زماں گزرے

تجھے خبر ہے تری یاد میں سر مژگاں
تمام رات ستاروں کے کارواں گزرے

وہی تو ہیں مری برباد عمر کا حاصل
جو حادثات جوانی میں ناگہاں گزرے

طلسم حسن و محبت نہیں تو پھر کیا ہے
دلوں کی بات نگاہوں کے درمیاں گزرے

تمہارے وعدۂ فردا کی زد میں جو آئے
پھر اس کی رات کہاں گزرے دن کہاں گزرے

اب اپنا حال دل زار کیا کہوں جعفرؔ
ہر ایک بات مری ان پہ جب گراں گزرے


Leave a comment

+