شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر عباس

  • غزل


عجیب بات تھی ہر شعر پر اثر ٹھہرا


عجیب بات تھی ہر شعر پر اثر ٹھہرا
میں اس کی بزم میں کل رات با ہنر ٹھہرا

ہوا جو آ کے وہ مہمان بعد مدت کے
لہوں میں رقص ہوا بام پر قمر ٹھہرا

ممانعت کا تقاضا تھا جس سے دور رہیں
چمن میں وہ ہی شجر سب سے با ثمر ٹھہرا

جنوں کی بھیک کہیں بھی نہ مل سکی اس کو
گدائے ہوش یہاں گرچہ در بہ در ٹھہرا

عجیب رقص تھا بسمل کا ہر تماشائی
تڑپ کے درد سے یکسر ہی بے خبر ٹھہرا

عقیدتوں کے دھندلکوں میں اور کیا ہوتا
ہر ایک فقرہ یہاں اس کا معتبر ٹھہرا

مجھے نہ قتل کریں بس پیام لایا ہوں
مری حقیقت ہی کیا میں تو نامہ بر ٹھہرا

سفینہ گرچہ کنارے پہ جا لگا لیکن
سوال یہ ہے ادھر ٹھہرا یا ادھر ٹھہرا

نہ جانے کتنی ہی سمتیں بلا رہی ہیں مجھے
ہر اک قدم پہ ہے مجھ کو نیا سفر ٹھہرا

نہ دیکھ پایا کوئی آنکھ بھر کے آئینہ
خود اپنا چہرہ یہاں باعث مفر ٹھہرا

ٹھہر کے جس نے بھی کچھ دیر خود کو دیکھ لیا
وہ اپنی وحشت بیجا کا چارہ گر ٹھہرا

ہے جانے کتنے ہی پردوں میں محو آرایش
جھلک بھی دیکھ لی جس نے وہ دیدہ ور ٹھہرا

ہر ایک شے سے محبت ہے بس علاج یہاں
بس ایک نسخہ یہی ہے جو کارگر ٹھہرا

شروع ہوا تھا ابھی اور قریب ختم ہے اب
یہ زندگی کا سفر کتنا مختصر ٹھہرا


Leave a comment

+