شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر ساہنی

  • غزل


محبتوں کی عنایتوں سے ہوا ہے دل یہ خراب بابا


محبتوں کی عنایتوں سے ہوا ہے دل یہ خراب بابا
خدا پرستی کا طور دیکھو بنا ہے کیسا عذاب بابا

جھلس رہا ہے زمیں کا سینہ کرن کرن سے دعا کرو تم
تراوتوں کی دو بوند لے کر یہاں بھی برسے سحاب بابا

ہے فاقہ مستی کا سلسلہ جب تو آئے سختی قدم میں کیسے
یہ ناتوانی کی لرزشیں ہیں نہ پی ہے میں نے شراب بابا

فضا کی جب معتبر متانت گریز پا ہو کے رہ گئی ہے
کہاں لکھے گا وہ خامشی سے سوال پڑھ کر جواب بابا

ہزار تفتیش پر مجھے اب پتہ چلا ہے کہ میرے دل کو
بہت ہی بے چین کر گیا تھا سحر سے شب کا حجاب بابا

طرح طرح سے تبسموں میں لپیٹ کر خواہشوں نے لوٹا
کسے چھپاؤں کہاں سے بولوں بتاؤ مجھ کو وہ خواب بابا

مروتوں کی مسرتوں کی کہانیاں درج کی گئی تھیں
جگہ جگہ سے پھٹی پڑی ہے نہ کھولو اب وہ کتاب بابا

صعوبتوں کی افادیت سے کوئی بھی منکر نہ ہو سکے گا
کہ خار کے درمیان رہ کر مہک رہا ہے گلاب بابا

وہ ساٹھ باسٹھ کی سیڑھیوں پر تھکاوٹوں سے ہے چور پھر بھی
سمیٹ کر حوصلوں کو جعفرؔ تلاشتا ہے شباب بابا


Leave a comment

+