شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر رضا

  • غزل


بری بات ان کو ہماری لگے


بری بات ان کو ہماری لگے
ہمیں ان کی ہر بات پیاری لگے

نئے طرز کی ان کی یاری لگے
کریں ایسی باتیں کٹاری لگے

یہ جھرنے یہ لالہ یہ سبزہ یہ گل
چمن میں ہر اک شے تمہاری لگے

یہ مجہول سی دوستی کیا کریں
ہمیں دشمنی دل سے پیاری لگے

کلی سا بدن ہے کہ موج بہار
وہ سر سے قدم تک کنواری لگے

یہ دل کی امانت بنیں تو سہی
جو تیر ستم باری باری لگے

دلوں میں جو اترے تو لہرائے برق
نگاہ کرم سحر کاری لگے

کسی خون ناحق کی گل ریزیاں
چمن در چمن لالہ کاری لگے

غزل ایسی کہہ دی ہے جعفر رضاؔ
رقیباں کے دل پر کٹاری لگے


Leave a comment

+