شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر بلوچ

  • غزل


طریق کہنہ پہ اب نظم گلستاں نہ رہے


طریق کہنہ پہ اب نظم گلستاں نہ رہے
مری بہار کو اندیشۂ خزاں نہ رہے

یہ آرزو ہے بدل جائے رسم شہر وفا
اداس حسن نہ ہو عشق سر گراں نہ رہے

پیام وصل سے دل باغ باغ ہو جائیں
لبوں پہ شکوۂ بے مہریٔ بتاں نہ رہے

طلوع مہر بڑے تزک و احتشام سے ہو
افق سیاہئ شب سے دھواں دھواں نہ رہے

سماعتوں پہ مسلسل ہو نغمگی کا نزول
نظر میں زشت مناظر کا کارواں نہ رہے

مسرتوں کے پھریرے جہاں میں لہرائیں
غم و الم کے لیے گوشۂ اماں نہ رہے

بروئے عدل سبھی اپنا اپنا حصہ لیں
اور احتمال غلط بخشیٔ مغاں نہ رہے


Leave a comment

+