شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جتیندر موہن سنہا رہبر

  • غزل


کیف جنوں سہی یہی حالت بنی رہے


کیف جنوں سہی یہی حالت بنی رہے
للہ میری ان کی محبت بنی رہے

جو ہو گیا سو ہو گیا اب اس کو چھوڑیئے
یوں کیجئے کہ عشق کی عظمت بنی رہے

میرے گنہ ہزار سہی سو کی ایک بات
یہ ہے کہ دل میں آپ کی رحمت بنی رہے

اے دوست تیرے ملنے کی صورت نہیں سہی
کچھ تیرے کام آنے کی طاقت بنی رہے

دیدار کے خیال کی جرأت نہیں مجھے
در کو سلام کرنے کی عادت بنی رہے

اے عشق تو نے خوب کیا باغ باغ دل
تا عمر ان گلوں کی یہ نکہت بنی رہے

وہ آ گئے ہیں خود ہی مری زندگی میں اب
آنکھوں میں اس یقین کی جلوت بنی رہے

ہر سو عیاں بہشت ہر اک گام پر ارم
ہر لمحہ وصل ہے یہ عقیدت بنی رہے

یارب میں کر گیا ہوں کچھ ایسی ہی اک خطا
یوں کیجیو کہ دہر میں عزت بنی رہے

رہبرؔ ہم ان سے کہتے ہیں ہم پر جفا کریں
ان کو دعائیں دینے کی عادت بنی رہے


Leave a comment

+