شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جاوید اختر بیدی

  • غزل


تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارا لکھ


تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارا لکھ
پھیلنے ہی والا ہے ہر طرف اجالا لکھ

رزم گاہ ہستی میں یوں برا نہ سوچ اپنا
دشمنوں کے اندر کے صلح جو کو اچھا لکھ

نقش پا کے جنگل میں کیا شمار رستوں کا
ہے جدا زمانے سے لیکن اپنا رستہ لکھ

بے حسی کا یہ جادو ٹوٹ ہی تو جائے گا
اس لیے نہ قریے کو پتھروں کا صحرا لکھ

اس نگر کے لوگوں کو پہلے بخش بینائی
اور بعد میں خود کو اس نگر کا عیسیٰ لکھ

حرف ذہن میں بیدیؔ رنگ سے تہی کب ہیں
صرف تیرا کاغذ ہے جو ابھی ہے سادہ لکھ


Leave a comment

+