شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

اقبال انجم

  • غزل


دور تا حد افق منظر سنہرا ہو گیا


دور تا حد افق منظر سنہرا ہو گیا
رفتہ رفتہ شام کا ہر رنگ گہرا ہو گیا

یا تو اب آہٹ کوئی مجھ تک پہنچ پاتی نہیں
یا مرے اندر کا سارا شہر بہرا ہو گیا

ایک اک کر کے ہر اک تصویر دھندلاتی گئی
جب اداسی کا کنواں کچھ اور گہرا ہو گیا

کیا کہوں کس شہر کی ویرانیاں آنکھوں میں تھیں
جس گھنے جنگل سے میں گزرا وہ صحرا ہو گیا


Leave a comment

+