شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

حسن ظہیر راجا

  • غزل


ہر گھڑی خوف کے گرداب میں رہنا ہی نہیں


ہر گھڑی خوف کے گرداب میں رہنا ہی نہیں
اب مجھے حلقۂ احباب میں رہنا ہی نہیں

میں تری بات کرا دیتا ہوں خود سے لیکن
آنکھ کہتی ہے کسی خواب میں رہنا ہی نہیں

نام بھی لیتا نہیں اب وہ کہیں جانے کا
کل جو کہتا تھا کہ پنجاب میں رہنا ہی نہیں

ہم ملاقات کے اوقات بڑھا دیں لیکن
دیر تک چاند کو تالاب میں رہنا ہی نہیں

وہ تو ایسے ہی مجھے آپ بلاتی ہے حسنؔ
جب کہ مجھ کو ادب آداب میں رہنا ہی نہیں


Leave a comment

+