شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

حبیب جالب

  • غزل


یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے


یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے
یہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہے

یہ جو ہر دکھ سہنے والا دکھ کا مداوا جان گیا ہے
مظلوموں مجبوروں کا غم یہ جو مرے شعروں میں ڈھلا ہے

یہ جو مہک گلشن گلشن ہے یہ جو چمک عالم عالم ہے
مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے


Leave a comment

+