شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

گل افشاں

  • غزل


غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں


غلط فہمی ہے تم کو ہم تمہارے تو نہیں ہیں
ہماری آنکھ میں ایسے اشارے تو نہیں ہیں

ہمارے ہو تو پھر آؤ ہمارا ساتھ بھی دو
مسائل زندگی کے سب ہمارے تو نہیں ہیں

اداسی کو اداسی کیوں نہیں تسلیم کرتے
مری پلکوں پہ آنسو ہیں ستارے تو نہیں ہیں

میں باہر خواب سے آ بھی گئی تو کیا کروں گی
مری دنیا میں کچھ اچھے نظارے تو نہیں ہیں

محاذ آرائی جاری ہے ابھی سو لڑ رہے ہیں
ابھی ہم لڑ رہے ہیں جنگ ہارے تو نہیں ہیں

مگر یہ کیسے عالم آ رہے ہیں یاد مجھ کو
کہ ایسے روز و شب میں نے گزارے تو نہیں ہیں

پری کہتے ہو مجھ کو اور کبھی تم حور صاحب
ہمارے خال و خد کچھ اتنے پیارے تو نہیں ہیں


Leave a comment

+