شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

غلام حسین ساجد

  • غزل


میں اپنے سورج کے ساتھ زندہ رہوں گا تو یہ خبر ملے گی


میں اپنے سورج کے ساتھ زندہ رہوں گا تو یہ خبر ملے گی
گلاب کس شاخ پر کھلے گا چراغ کی لو کہاں رکے گی

میں زینۂ خواب سے اتر کر سحر تلک آ تو جاؤں لیکن
یہ شام مجھ پر عیاں نہ ہوگی یہ شب مجھے راستہ نہ دے گی

جو رنگ مجھ میں سنور رہے تھے وہ شام ہوتے ہی کھو گئے ہیں
جو شمع میرے وجود میں جل رہی ہے کس صبح تک جلے گی

سحر ہوئی تو مری تھکن سے نڈھال آنکھوں کے تھامنے کو
یہ نور کس سمت میں ڈھلے گا یہ چھاؤں کس اور سے بڑھے گی

میں اک نظام کہن کے نرغے میں سانس لے کر بھی سوچتا ہوں
کہ صبح کیسے طلوع ہوگی کہ شام کس رنگ میں ڈھلے گی

میں اپنے ہمراہ ایک دنیا کو لے کے جب چل پڑوں گا ساجدؔ
زمین پانی کے نرم دھارے پہ کیا یوں ہی گھومتی رہے گی


Leave a comment

+