شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

غلام حسین ساجد

  • غزل


جب کوئی پھول مسخر نہ ہو آسانی سے


جب کوئی پھول مسخر نہ ہو آسانی سے
کام لیتا ہوں وہاں نقد ثنا خوانی سے

روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ
رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے

کر کے دیکھوں گا کسی طرح لہو کی بارش
آتش ہجر بجھے گی نہ اگر پانی سے

ان کو پانے کی تمنا نہیں جاتی دل سے
کیا منور ہیں ستارے مری تابانی سے

کوئی مصروف ہے تزئین میں قصر دل کی
چوب کاری سے کہیں آئنہ سامانی سے

خاک زادوں سے تعلق نہیں رکھتے کچھ لوگ
میزبانی سے غرض ان کو نہ مہمانی سے

میں اسی خاک پہ بیٹھا ہوں بڑے شوق کے ساتھ
کوئی نسبت نہیں اب تک مجھے سلطانی سے

بند ہو جائے اگر روزن امکان خیال
خواب کھلتے ہیں مرے دل میں فراوانی سے

میری صورت سے جو بیزار ہیں اب بھی ساجدؔ
کب وہ خوش ہوں گے مرے طرز مسلمانی سے


Leave a comment

+