شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

فرحان حنیف وارثی

  • غزل


کوئی دل میں آ بیٹھا اور چٹکی لی ارمانوں میں


کوئی دل میں آ بیٹھا اور چٹکی لی ارمانوں میں
رات عجب منظر دیکھا جب چاند کھلا میدانوں میں

پیٹ کی ذلت نے بالآخر بازاروں نیلام کیا
عزت جانے قید تھی کب سے موروثی تہہ خانوں میں

جیسے کوئی دھیمے لفظوں میرا نام پکارے ہے
ایک صدا رہ رہ کر اب بھی در آتی ہے کانوں میں

یادوں کی ایک تتلی پھرتی رہتی ہے بے چینی سے
پیار کے باسی بھول ابھی تک رکھے ہیں گل دانوں میں

سوچ سے اس کو دور رکھوں میں جب بھی لکھوں دنیا کی
جانے کیسے بس جاتا ہے وہ میرے افسانوں میں

ناپ‌ تول کر نظمیں غزلیں کہنا تم فرحان حنیفؔ
وزنی وزنی باٹ رکھے ہیں تنقیدی میزانوں میں


Leave a comment

+