شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

فانی بدایونی

  • غزل


اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے


اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے
اللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہے

آتی ہے صبا سوئے لحد ان کی گلی سے
شاید مری مٹی ابھی برباد نہیں ہے

اللہ بچائے اثر ضبط سے ان کو
بیداد تو ہے شکوۂ بیداد نہیں ہے

اپنی ہی بدولت ہے نشیمن کی خرابی
منت کش بے دردئ صیاد نہیں ہے

آمادۂ فریاد رسی ہے وہ ستم گر
فریاد کہ اب طاقت فریاد نہیں ہے

دنیا میں دیار دل فانیؔ کے سوا ہائے
کوئی بھی وہ بستی ہے جو آباد نہیں ہے

RECITATIONS نعمان شوق



00:00/00:00 اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے نعمان شوق

Leave a comment

+