شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

اعجاز عبید

  • غزل


ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے


ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے
لیکن تاروں سے پوچھو کب نکلے چمکے ڈوب گئے

دو سائے پہلے آکاش تلے ساحل پر بیٹھے تھے
لہروں نے لپٹانا چاہا اور بے چارے ڈوب گئے

پیڑوں پر جو نام لکھے تھے وہ تو اب بھی باقی ہیں
لیکن جتنے بھی تالاب میں پتھر پھینکے ڈوب گئے

اونچے گھر آکاش چھپا کر اپنے آپ پہ نازاں ہیں
چاروں اور کھلے آکاش کے سورج پیچھے ڈوب گئے

اب تو ہمیں اک شعر کا ہونا بھی نا ممکن لگتا ہے
اب تو دن کی نیلی جھیل میں رات کے تارے ڈوب گئے


Leave a comment

+