شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

احساس مرادآبادی

  • غزل


چین پڑتا نہیں ہے سونے میں


چین پڑتا نہیں ہے سونے میں
سوئیاں تو نہیں بچھونے میں

چہرہ اشکوں سے یوں بھگونے میں
کیا سکوں مل رہا ہے رونے میں

اک نظر کا سوال ہوتا ہے
اختلافات ختم ہونے میں

آپ عشرت پسند کیا جانیں
وہ جو لذت ہے زخم دھونے میں

کون پودے صداقتوں کے لگائے
دن لگیں گے درخت ہونے میں

ایک مجبور کی ہنسی دیکھی
فرق کیا رہ گیا تھا رونے میں

کچھ تو ہے قدر مشترک احساسؔ
ان کو ہنسنے میں میرے رونے میں


Leave a comment

+