شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

دلاور علی آزر

  • غزل


ہوس سے جسم کو دو چار کرنے والی ہوا


ہوس سے جسم کو دو چار کرنے والی ہوا
چلی ہوئی ہے گنہ گار کرنے والی ہوا

یہیں کہیں مرا لشکر پڑاؤ ڈالے گا
یہیں کہیں ہے گرفتار کرنے والی ہوا

تمام سینہ سپر پیڑ جھکنے والے ہیں
ہوا ہے اور نگوں سار کرنے والی ہوا

پڑے ہوئے ہیں یہاں اب جو سر بریدہ چراغ
گزشتہ رات تھی یلغار کرنے والی ہوا

ہماری خاک اڑاتی پھرے ہے شہر بہ شہر
ہماری روح کا انکار کرنے والی ہوا

اسی خرابے میں رہنے کی ٹھان بیٹھی ہے
بدن کا دشت نہیں پار کرنے والی ہوا

نہ جانے کون طرف لے کے چل پڑے آزرؔ
دھویں سے مجھ کو نمودار کرنے والی ہوا


Leave a comment

+