شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

دل ایوبی

  • غزل


سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے


سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے
بے درد تھے جو عین جوانی میں مر گئے

ملبوس اہل ہوش کا معیار دیکھ کر
دیوانے بے لباس درختوں سے ڈر گئے

شاید اداسیوں پہ ترس آ گیا مری
کل رات شہر جاں میں فرشتے اتر گئے

سنتے ہیں ان پہ نور برستا ہے آج تک
جن وادیوں سے ہو کے ترے خوش نظر گئے

ہم سر پھرے بھی خوب تھے اے دلؔ کہ عشق میں
ناموس و ننگ و نام بھی قربان کر گئے


Leave a comment

+