شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

چراغ شرما

  • غزل


اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور


اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور
کہتا ہے ہر گلاس پہ بس اک گلاس اور

خود کو کئی برس سے یہ سمجھا رہے ہیں ہم
کاٹی ہے اتنی عمر تو دو چار ماس اور

پہلے ہی کم حسین کہاں تھا تمہارا غم
پہنا دیا ہے اس کو غزل کا لباس اور

ٹکرا رہی ہے سانس مری اس کی سانس سے
دل پھر بھی دے رہا ہے صدا اور پاس اور

اللہ اس کا لہجۂ شیریں کہ کیا کہوں
واللہ اس پہ اردو زباں کی مٹھاس اور

باندھا ہے اب نقاب تو پھر کس کے باندھ لے
اک گھونٹ پی کے یہ نہ ہو بڑھ جائے پیاس اور

غالبؔ حیات ہوتے تو کرتے یہ اعتراف
دور چراغؔ میں ہے غزل کا کلاس اور


Leave a comment

+