شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

چراغ شرما

  • غزل


یار یہ اتفاق تو دیکھو


یار یہ اتفاق تو دیکھو
اس کو ہی دیکھتا ہے جو دیکھو

کاش کوئی مجھے ہلا کے کہے
دیکھو وہ آ رہا ہے وہ دیکھو

تیرگی سے بہت شکایت تھی
اب ذرا دیر شمس کو دیکھو

دیکھنا چاہتے ہو اپنا رقیب
آئنہ دے رہا ہوں لو دیکھو

خوب صورت دکھائی دیتی ہے
گر یہی رات صبح کو دیکھو

شوق سے دیکھو حسن یار مگر
پھر نہ کچھ دیکھنا ہو تو دیکھو


Leave a comment

+