شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

زہیب امروہوی

  • غزل


کام ایسا میں کوئی کر جاؤں


کام ایسا میں کوئی کر جاؤں
آپ کے قلب میں اتر جاؤں

تھام لو ہاتھ تم اگر میرا
میں نکھر جاؤں میں سنور جاؤں

بن گیا بت میں دیکھ کر تم کو
دل میں تھا دیکھ کر گزر جاؤں

اتنی شدت سے تم کو چاہا ہے
تم کو پا لوں اگر تو مر جاؤں

تم بھلائے بھلا نہیں سکتیں
میں نشہ وہ نہیں اتر جاؤں

ایسے ذہیبؔ آج ٹوٹا ہوں
کوئی چھو لے تو میں بکھر جاؤں


Leave a comment

+