شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

چاندنی پانڈے

  • غزل


مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ ملی


مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ ملی
ہر ایک چیز ملی ایک زندگی نہ ملی

تری تلاش میں پیروں میں پڑ گئے چھالے
مگر اے منزل مقصود تو کبھی نہ ملی

خوشی سے دوستی میری بھی تھی مگر اک دن
خفا ہوئی وہ کچھ ایسی کہ پھر کبھی نہ ملی

وہ جس چراغ کے دم سے مکان روشن تھا
اسی چراغ کو خود اپنی روشنی نہ ملی

تمہارے ہجر میں ایسا بھی وقت آیا ہے
بدن ٹٹول کے دیکھا تو نبض ہی نہ ملی

یہ جسم ہے کہ فقط شور گل ہے سانسوں کا
یہ آنکھ ہے کہ کوئی خواب دیکھتی نہ ملی

دل و دماغ پہ حاوی رہا غم دوراں
خوشی کے ساتھ بھی رہ کر مجھے خوشی نہ ملی

مجھے نہ مل سکا سورج مرے مکدر کا
ترا نصیب تجھے میری چاندنیؔ نہ ملی


Leave a comment

+