شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

افتخار قیصر

  • غزل


دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاس


دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاس
آ جا دریا ہونٹ سے لگ جا پی لے میری پیاس

عشق کے پہلے پہلے وار سے وہ بھی ٹوٹ گئی
اک جوگی کا پیار نہ آیا اس لڑکی کو راس

روزانہ پوشاکیں بدلوں اور خوشبوئیں بھی
میرے جسم سے اترے نا میری مٹی کی باس

سارے دریا پھوٹ پڑیں گے اک دوجے کے بیچ
اک دن آ کر مل جائے گی تیری میری پیاس

دل کے اندر ناچ رہے ہیں کتنے شاہ حسین
میرے عشق کی پھوٹی ہے اب روشن لال کپاس


Leave a comment

+