شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

دانیال طریر

  • غزل


خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیں


خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیں
شعر کا حسن ابد تاب وہی ہے کہ نہیں

کیا پری کو مجھے مچھلی میں بدلنا ہوگا
دیکھنے کے لیے تالاب وہی ہے کہ نہیں

میں جہاں آیا تھا پیڑوں کی تلاوت کرنے
سامنے قریۂ شاداب وہی ہے کہ نہیں

آنکھ کو نیند میں معلوم نہیں ہو سکتا
رات وہ ہے کہ نہیں خواب وہی ہے کہ نہیں

جس کو چھونے سے مرا جسم چمک اٹھے گا
دیکھ یہ شیشۂ مہتاب وہی ہے کہ نہیں

یہ کہانی کے الاؤ سے چرائی ہوئی آگ
محو حیرت ہے کہ برفاب وہی ہے کہ نہیں

سر جھکانے سے جہاں اشک تپاں جاگا تھا
سوچتا ہوں کہ یہ محراب وہی ہے کہ نہیں


Leave a comment

+