شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر ساہنی

  • غزل


دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شاید


دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شاید
آج بھی ہے وہ ہم سفر شاید

ہاتھ پتھر سے ہو گئے خالی
پیڑ پر ہے نہیں ثمر شاید

ڈھونڈھتا تھا وجود اپنا وہ
تھا ادھر اب گیا ادھر شاید

سرخیاں اگ رہی ہیں دامن پر
ہو گیا ہاتھ خوں سے تر شاید

پھول الفت کے کھل رہے ہوں جہاں
ہوگا ایسا بھی اک نگر شاید

بیکلی بڑھ گئی ہے دریا کی
کہہ گیا جھک کے کچھ شجر شاید

درد کا ہو گیا ہے مسکن وہ
لوگ کہتے ہیں جس کو گھر شاید

مل کے ان سے خوشی ہوئی مجھ کو
وہ بھی ہوں گے تو خوش مگر شاید

روتے روتے ہنسی مری خواہش
مل گئی اک نئی خبر شاید

دن کا کٹنا محال ہے تو سہی
رات ہو جائے گی بسر شاید

آگ پانی میں جو لگاتا ہے
وہ بھی ہوگا کوئی بشر شاید

صحن دل سے خوشی نہیں گزری
راستہ تھا وہ پر خطر شاید

دھوپ کے گھر گھٹا گئی جعفرؔ
خشک کرنے کو بال و پر شاید


Leave a comment

+