شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

پرمود پونڈھیر پیاسا

  • غزل


ذکر میں آتے ہیں جب الفاظ کچھ


ذکر میں آتے ہیں جب الفاظ کچھ
ہم سخن بدلے ترے انداز کچھ

آج کل ماحول کچھ اچھا نہیں
ہیں چھپے محفل میں دست انداز کچھ

روز جلتے ہیں پتنگے کس لیے
اور بجھتی لو ہے بے آواز کچھ

بچ گئیں یہ تو کرشمہ ہو گیا
حد میں سورج کے جو تھیں پرواز کچھ

آ گئی ہیں تلخیاں کردار میں
ہو گئے بے پردا ہے اعجاز کچھ

مسکرانا اور منہ کا پھیرنا
ہم سمجھ پائے نہ اب تک راز کچھ

ایک طوفاں سا اٹھا ہے اس طرف
اڑ رہے ہیں اس طرف بھی باز کچھ

عشق کے بازار میں آ ہی گئے
جو بھی ہو انجام ہو آغاز کچھ


Leave a comment

+