شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

بشیر احمد شاد

  • غزل


سفر کٹھن ہے میں راہوں سے آشنا بھی نہیں


سفر کٹھن ہے میں راہوں سے آشنا بھی نہیں
تری وفا کے سوا کوئی آسرا بھی نہیں

خدا سے مانگنے بیٹھا ہوں اس پری وش کو
مرے نصیب کی تختی پہ جو لکھا بھی نہیں

میں جانتا ہوں اسے جانے کتنی مدت سے
یہ اور بات کہ اس شخص سے ملا بھی نہیں

اٹھا کے ہاتھ محبت کی بارگاہوں میں
میں سوچتا ہوں کہ اب کوئی مدعا بھی نہیں

قدم قدم تری راہوں پہ جگنوؤں کے چراغ
روش روش مری قسمت میں اک دیا بھی نہیں

ہزار خواب سجائے تھے اپنی راتوں میں
کھلی جو آنکھ تو منظر کوئی رہا بھی نہیں


Leave a comment

+