شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

نادم ندیم

  • غزل


سر اٹھانے کی تو ہمت نہیں کرنے والے


سر اٹھانے کی تو ہمت نہیں کرنے والے
یہ جو مردہ ہیں بغاوت نہیں کرنے والے

مفلسی لاکھ سہی ہم میں وہ خودداری ہے
حاکم وقت کی خدمت نہیں کرنے والے

ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے

ہاتھ آندھی سے ملا آئے اسی دور کے لوگ
یہ چراغوں کی حفاظت نہیں کرنے والے

عشق ہم کو یہ نبھانا ہے تو جو رکھ شرطیں
ہم کسی شرط پہ حجت نہیں کرنے والے

پھوڑ کر سر ترے در پر یہیں مر جائیں گے
ہم ترے شہر سے ہجرت نہیں کرنے والے


Leave a comment

+