شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

دنیش کمار درونا

  • غزل


سانس کا جھونکا بھی اب طوفان ہوتا جائے گا


سانس کا جھونکا بھی اب طوفان ہوتا جائے گا
ہر نفس تھوڑا بہت نقصان ہوتا جائے گا

چاپ کانوں سے کسی کی دور جاتی جائے گی
رفتہ رفتہ یہ بدن بے جان ہوتا جائے گا

اجنبی لوگوں کی دل پر دھاک بڑھتی جائے گی
اپنے ہی گھر میں کوئی مہمان ہوتا جائے گا

پاسبانوں کے حوالے بستیاں ہوں گی اگر
جاگنے کا رات بھر اعلان ہوتا جائے گا

ہجر کا عالم اڑا لے جائے گا رنگت کہیں
اور سمندر سوکھ کر میدان ہوتا جائے گا

رات ہونے دو یہاں پر برہنائی چھائے گی
وہ ہوس میں دیکھنا حیوان ہوتا جائے گا


Leave a comment

+