شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

گلزار دہلوی

  • غزل


نہ ثانی جب مذاق حسن کو اپنا نظر آیا


نہ ثانی جب مذاق حسن کو اپنا نظر آیا
نگاہ شوق تک لے کر پیام فتنہ‌ گر آیا

کہا لا ریب بڑھ کر علم و دانش نے عقیدت سے
جو بزم اہل فن میں آج مجھ سا بے ہنر آیا

سر محفل چرانا مجھ سے دامن اس کا ضامن ہے
نہیں آیا اگر مجھ تک بہ انداز دگر آیا

بہت اے دل تری روداد غم نے طول کھینچا ہے
کبھی وہ بت بھی سننے کو یہ قصہ مختصر آیا

ہماری اک خطا نے خلد سے دنیا میں لا پھینکا
اگر در پیش دنیا سے بھی پھر کوئی سفر آیا

میں خود ہی بے وفا ہوں بے ادب ہوں اپنا قاتل ہوں
ہر اک الزام میرے سر بہ الفاظ دگر آیا

مکدر کچھ فضا گلزارؔ دلی میں سہی لیکن
کہیں اہل زباں ہم سا بھی اردو میں نظر آیا


Leave a comment

+