شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

فانی جودھپوری

  • غزل


چلن اس دوغلی دنیا کا گر منظور ہو جاتا


چلن اس دوغلی دنیا کا گر منظور ہو جاتا
وہ مجھ سے دور ہو جاتا میں اس سے دور ہو جاتا

ہنر ہاتھوں سے چکنے کا بچا کر لے گیا مجھ کو
بھروسے پاؤں کے رہتا تو میں معذور ہو جاتا

زمانے بھر کی باتوں کو اگر دل سے لگا لیتا
جہاں پہ دل دھڑکتا ہے وہاں ناسور ہو جاتا

سفر کرتے ہوئے اپنا ہٹا کر آنکھ سے پٹی
میں سنگ میل جو پڑھتا تھکن سے چور ہو جاتا

یہ فانیؔ دل کی سنتا ہے تبھی گمنام ہے اب تک
اگر یہ ذہن کی سنتا بہت مشہور ہو جاتا


Leave a comment

+