شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

راحیل فاروق

  • غزل


ہم ترے عشق پہ مغرور نہ ہو جائیں کہیں


ہم ترے عشق پہ مغرور نہ ہو جائیں کہیں
اس قدر پاس نہ آ دور نہ ہو جائیں کہیں

ہمیں آئینہ بنا لے کہ یہ ساحر آنکھیں
اپنے ہی سحر سے مسحور نہ ہو جائیں کہیں

سینہ تابوت نہ بن جائے کسی بلبل کا
خوشبوئیں باغ کی کافور نہ ہو جائیں کہیں

مت ہنسا اس قدر اے نوبت حالات ہمیں
جو فقط زخم ہیں ناسور نہ ہو جائیں کہیں

دھڑکنیں کیا ہیں بس اک راکھ میں لرزش سی ہے
پھر وہی جلوے سر طور نہ ہو جائیں کہیں

جگنوؤں کو تو بٹھا لیتی ہے آنکھوں پہ ہوا
دیے ڈرتے ہیں کہ بے نور نہ ہو جائیں کہیں

ذرے ذرے میں تو وہ خود ہے مکیں ورنہ ہم
چھپ نہ جائیں کہیں مفرور نہ ہو جائیں کہیں

آزمائش میں نہ ڈال اپنے لبوں کو مت بول
فرقتیں بھی ہمیں منظور نہ ہو جائیں کہیں

ہم تو عاشق ہیں ہمارا تو چلو کام سہی
سجدے اس شہر کا دستور نہ ہو جائیں کہیں

آپ کے عشق میں ہم ہو تو گئے آپ ہی آپ
آپ کے نام سے مشہور نہ ہو جائیں کہیں

عشق کو حضرت راحیلؔ سمجھتے تو ہیں جبر
قبلہ و کعبہ بھی مجبور نہ ہو جائیں کہیں


Leave a comment

+