شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

دنیش کمار درونا

  • غزل


ایک برسات میں میدان سمندر ہوگا


ایک برسات میں میدان سمندر ہوگا
درد سوچا نہیں تھا سوچ سے بڑھ کر ہوگا

وہ جو آئے گا مرے پاس مسیحا بن کر
اس کے ہاتھوں میں مرے نام کا خنجر ہوگا

تیز چلنے سے ہے مقصود روانی سن لو
تھک کے جو بیٹھ گیا میل کا پتھر ہوگا

لاکھ لیتے رہو ہاتھوں کی تلاشی میرے
جو بھی اندر ہے مرے ذہن کے اندر ہوگا

سرخ آنکھوں کا کہاں رنگ ہوا کرتا ہے
خون میں لپٹے ہوئے خواب کا منظر ہوگا

جو گرا دے گا مجھے تاش کے پتوں کی طرح
میری تعمیر میں تجھ سا کوئی پتھر ہوگا


Leave a comment

+