شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

غضنفر

  • غزل


سجا کے ذہن میں کتنے ہی خواب سوئے تھے


سجا کے ذہن میں کتنے ہی خواب سوئے تھے
کھلی جو آنکھ تو خود سے لپٹ کے روئے تھے

چہار سمت بس اک بے کراں سمندر ہے
بتائیں کیا کہ سفینے کہاں ڈبوئے تھے

تہوں میں ریت ابلتی ہے کیا پتا تھا ہمیں
زمیں سمجھ کے زمینوں میں بیج بوئے تھے

سیاہ رات میں بچے کی طرح چونک پڑے
تمام دن جو اجالوں سے لگ کے سوئے تھے

عجیب بات ہمارا ہی خوں ہوا پانی
ہمیں نے آگ میں اپنے بدن بھگوئے تھے

ہمارے ہاتھ سے وہ بھی نکل گیا آخر
کہ جس خیال میں ہم مدتوں سے کھوئے تھے


Leave a comment

+