شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر ساہنی

  • غزل


تماشا اک انوکھا سا دکھانا


تماشا اک انوکھا سا دکھانا
تردد میں کھلا چہرہ دکھانا

اسے میں رام کر لوں گا یقیناً
بھری محفل میں بس تنہا دکھانا

ہمیشہ جوش میں رہنا نہیں ہے
کبھی جذبہ بہت دھیما دکھانا

اگر کہنا ہوا مشکل زباں سے
اشاروں میں نئی دنیا دکھانا

دلاسے کے لیے وہ آ گئے ہیں
کوئی زخمی کوئی مردہ دکھانا

اسے آسان ہے فن کار ہے وہ
کسی مغموم کو ہنستا دکھانا

ثمر پختہ ہمارا ہو رہے گا
شجر کے پاس تم ڈھیلا دکھانا

ذرا بہتے ہوئی پانی کو جعفرؔ
مرا تپتا ہوا صحرا دکھانا


Leave a comment

+