شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

چاند اکبرآبادی

  • غزل


نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یار


نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یار
بڑی طویل ہے یہ داستان چھوڑ نہ یار

نکل پڑے جو سفر میں تو سوچنا کیسا
کہاں ہے دھوپ کہاں سائبان چھوڑ نہ یار

دبی ہے آگ جو دل میں اسے کریدو مت
یہیں کہیں تھا ہمارا مکان چھوڑ نہ یار

یہ سوچ ہم کو پہنچنا ہے اپنی منزل تک
نہ گن کسی کے قدم کے نشان چھوڑ نہ یار

خوشی تھی مول تو غم تھا بیاج کے جیسا
تمام عمر بھرا ہے لگان چھوڑ نہ یار

ہوا ہے زندگی بھر کی جگاڑ روٹی کا
بکی ہے قسطوں میں اپنی دکان چھوڑ نہ یار

لباس سنتی ہے امتی محمدی ہوں
نہ پوچھ اب یہ نسب خاندان چھوڑ نہ یار

یہ سب بلندیاں اللہ کے لیے ہیں چاندؔ
مقام مرتبہ رتبہ یہ شان چھوڑ نہ یار


Leave a comment

+