شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

لبنی صفدر

  • غزل


کچھ کہتے ضرور ان سے گویائی نہیں باقی


کچھ کہتے ضرور ان سے گویائی نہیں باقی
صورت تو حسیں ہوگی بینائی نہیں باقی

دکھ درد کی ساتھی تھی ملنا ہے محال اس کا
اک حشر سا برپا ہے تنہائی نہیں باقی

اب دل میں ہے کیا میرے اس بات کو تم چھوڑو
اس راہ محبت میں پسپائی نہیں باقی

حالات کی شدت نے جھلسائے بدن ایسے
چہرے کی ضیا رخصت زیبائی نہیں باقی

کچھ رنگ خزاں نے بھی گل ایسے کھلائے ہیں
لہجوں میں کہیں بھی تو رعنائی نہیں باقی


Leave a comment

+