شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

پرمود پونڈھیر پیاسا

  • غزل


خط ادھورے تھے مگر وہ چٹھیاں اچھی لگیں


خط ادھورے تھے مگر وہ چٹھیاں اچھی لگیں
کاغذوں سے ہی سہی نزدیکیاں اچھی لگیں

ذکر میں بھی نام ان کا ہم نہ لے پائے کبھی
پیار میں ان بندشوں کی چپیاں اچھی لگیں

رات بھی خاموش تھی اور چاند بھی غمگین تھا
آنکھ میں ڈورے لیے وہ سرخیاں اچھی لگیں

چاک خود ہی ہو گئی اس باغ کے ہی بام پر
اف تلک نا کر سکیں جو تتلیاں اچھی لگیں

پھول شاخوں پر پلک نم اوس سے کرتے رہے
پر ہمیں تو خار کی وہ برچھیاں اچھی لگیں

آسماں نے دھوپ کی جب گنگنائی ہے غزل
وہ ہمیں نور سحر کی سردیاں اچھی لگیں

پتھروں میں باندھ کر کے پھینکنا چھت پر مری
رات میں آتی ہوئی وہ پرچیاں اچھی لگیں


Leave a comment

+