شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جعفر ساہنی

  • غزل


ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تک


ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تک
زندگی ایسی کہاں ہوش ربا تھی کل تک

غیظ آندھی کا بنا اب ہے مقدر میرا
دل کے آنگن میں مہکتی سی صبا تھی کل تک

نغمگی آ گئی کس طور سے اس کے لب پر
جس کی آواز ترنم سے جدا تھی کل تک

آج خاموش بہت بزم بہاراں کیوں ہے
گنگناتے سے لبادے میں ہوا تھی کل تک

حسن کی شوخ نظر مانگے ہے قیمت اپنی
جھکتی آنکھوں کے دریچے میں حیا تھی کل تک

یہ جو ہنگاموں سے مربوط ہے محفل میری
کیف زا دل ربا بلبل کی صدا تھی کل تک

سرنگوں وقت کے قدموں میں ہے خواہش اپنی
ورنہ ہر سانس میں اک موج انا تھی کل تک

اب کہاں شوق کو ملتا ہے بڑھاوا جعفرؔ
نرم پلکوں میں گھلی ایک ادا تھی کل تک


Leave a comment

+