شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

نبیل احمد نبیل

  • غزل


جلن کے خوف سے باہر نکل سکو تو چلو


جلن کے خوف سے باہر نکل سکو تو چلو
بچھی ہے دھوپ ہی رستوں میں چل سکو تو چلو

یہی تقاضا ہے اس بار بھی محبت کا
بدن پہ گرد سفر کو جو مل سکو تو چلو

جلا کے ذلت شب میں ہتھیلیوں پہ چراغ
ہوا کے رخ کو اگرچہ بدل سکو تو چلو

ملا ہے اذن مسافت کڑے اندھیروں میں
کسی چراغ کی لو میں جو ڈھل سکو تو چلو

خیال رکھنا اجل آخری پڑاؤ نہیں
عذاب عمر سے باہر نکل سکو تو چلو

بہت ہی ٹیڑھا ہے اے دوست عشق کا رستہ
بغیر راہنما کے سنبھل سکو تو چلو

اس ایک شرط پہ گلشن میں داخلہ ہوگا
کسی گلاب کے سانچے میں ڈھل سکو تو چلو

ہر ایک گام پہ بکھری ہے راکھ صدیوں کی
نبیلؔ بن کے شرارہ جو جل سکو تو چلو


Leave a comment

+